
(Payam-e-Mashriq-002) Dibacha (Author’s Preface) دیباچه
پیام مشرق کی تصنیف کا محرک جرمن حکیم حیات گوئے کا مغربی دیوان“ ہے جس کی نسبت جرمنی کا اسرائیکی شاعر ہاتنا
لکھتا ہے۔
یہ ایک گلدستہ عقیدت ہے جو مغرب نے مشرق کو بھیجا ہے…
اس دیوان سے اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ مغرب اپنی کمزور اور سرد روحانیت سے بیزار ہو کر مشرق کے سینے سے حرارت کا متلاشی ہے۔ گونے کا یہ مجموعہ اشعار جو اس کی بہترین تصانیف سے ہے اور جس کو اس نے خود دیوان“ کے نام سے موسوم کیا ہے کن اثرات کا نتیجہ تھا اور کن حالات میں لکھا گیا ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مختصر طور پر اس تحریک کا ذکر کیا جائے جس کو المانوی ادبیات کی تاریخ میں تحریک مشرقی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ میرا قصد تھا کہ اس دیباچے میں تحریک مذکور پر کسی قدر تفصیل سے بحث کروں گا مگر افسوس ہے کہ بہت سا مواد جو اس کے لئے ضروری تھا ہندوستان میں دستیاب نہ ہو سکا۔ پال ہورن تاریخ ادبیات ایران کے مصنف نے اپنے ایک مضمون میں اس امر پر بحث کی ہے کہ گوئٹے کس حد تک شعرائے فارس کا ممنون ہے۔ لیکن رسالہ ناروانڈ سود کا وہ نمبر جس میں مضمون مذکور شائع ہوا تھا نہ ہندوستان کے کسی کتب خانے سے مل سکا نہ جرمنی سے۔ مجبوراس دیباچے کی تالیف میں کچھ تو گزشتہ مطالعہ کی یادداشت پر بھروسہ کرتا ہوں اور کچھ مسٹر چارلس ریمی کے مختصر مگر نہایت مفید اور کارآمد رسالے پر جو انہوں نے اس موضوع پر لکھا ہے۔ ابتدائے شباب ہی سے گوئٹے کی ہمہ گیر طبیعت مشرقی تخیلات کی طرف مائل تھی ۔
سٹراس برگ میں جہاں وہ قانون کے مطالعہ میں مصروف تھا۔ اس کی ملاقات جرمن لٹریچر کی مشہور اور قابل احترام شخصیت ہر ڈر سے ہوئی جس کی صحبت کے اثرات کو گوئٹے نے خود اپنے سواری میں تسلیم کیا ہے۔ ہر ڈر فاری نہ جانتا تھا لیکن چونکہ اخلاقی رنگ اس کی طبیعت پر غالب تھا اس لئے سعدی کی تصانیف سے اسے نہایت گہری دلچسپی تھی ۔ چنانچہ گلستاں کے بعض حصوں کا اس نے جرمن زبان میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ خواجہ حافظ کے رنگ سے اسے چنداں لگاؤ نہ تھا۔ اپنے معاصرین کو سعدی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھتا ہے حافظ کے رنگ میں ہم بہت کچھ نغمہ سرائی کر چکے۔ اس وقت سعدی کے تلمذ کی ضرورت ہے۔ لیکن باوجود اس دلچپسی کے جو ہر ڈر کو مشرقی لٹریچر سے تھی اس کے اپنے اشعار اور دیگر تصانیف پر مشرقی لٹریچر کا کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا۔ علی ہذا القیاس گوئٹے کا دوسرا معاصر شلر بھی جو مشرقی تحریک کے آغاز سے پہلے ہی مر چکا تھا۔ مشرقی اثرات سے آزاد ہے۔ گو اس بات کو فراموش نہ کرنا چاہیے کہ اس کے ڈراما توران دخت کا پلاٹ مولانا نظامی کے افسانہ دختر پادشاہ اقلیم چہارم (ہفت پیگیر ) سے لیا گیا ہے۔ جس کا آغاز مولانا نے اس شعر سے کیا ہے۔
گفت کز جمله ولایت روس بود شہرے بہ نیکوئی چو عروس
۱۸۱۲ء میں خان بیمر نے خواجہ حافظ کے دیوان کا پورا ترجمہ شائع کیا اور اس ترجمے کی اشاعت سے جرمن ادبیات میں مشرقی تحریک کا آغاز ہوا۔ گوئٹے کی عمر اس وقت 65 سال کی تھی اور یہ وہ زمانہ تھا جب کہ جرمن قوم کا انحطاط ہر پہلو سے انتہا تک پہنچ چکا تھا۔ ملک کی سیاسی تحریکوں میں عملی حصہ لینے کے لئے گوئٹے کی فطرت موزوں نہ تھی اور یورپ کی عام ہنگامہ آرائیوں سے بیزار ہو کر اس کی بے تاب اور بلند پرواز روح نے مشرقی فضا کے امن و سکون میں اپنے لئے ایک نشیمن تلاش کر لیا۔ حافظ کے ترنم نے اس کے تخیلات میں ایک بہیجان عظیم برپا کر دیا۔ جس نے آخر کار مغربی دیوان کی ایک پائیدار اور مستقل صورت اختیار کر لی مگر فان بیمر کا ترجمہ گوئٹے کے لئے محض ایک محرک ہی نہ تھا بلکہ اس کے عجیب و غریب تخیلات کا ماخذ بھی تھا۔ بعض جگہ اس کی نظم خواجہ کے اشعار کا آزادتر جمہ معلوم ہوتی ہے اور بعض جگہ اس کی قوت تخیل کسی خاص مصرع کے اثر سے ایک نئی شاہراہ پر پڑ کر زندگی کے نہایت دقیق اور گہرے مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔ گوئٹے کا مشہور سوانح نگار بیل سوشکی لکھتا ہے۔ دبلبل شیراز کی نغمہ پردازیوں میں گوئٹے کو اپنی ہی تصویر نظر آتی تھی۔
اس کو کبھی کبھی یہ احساس بھی ہوتا تھا کہ شاید میری روح ہی حافظ کے پیکر میں رہ کر مشرق کی سرزمین میں زندگی بسر کر چکی ہے۔ وہی زمینی مسرت ، وہی آسمانی محبت ، وہی سادگی ، وہی عمق ، وہی جوش و حرارت ، وہی وسعت مشرب، وہی کشادہ دلی اور وہی قیود و رسوم سے آزادی ،غرضیکہ ہر بات میں ہم اسے حافظ کا مثل پاتے ہیں جس طرح حافظ انسان الغیب و ترجمان اسرار ہے اسی طرح گوئے بھی ہے اور جس طرح حافظ کے بظاہر سادہ الفاظ میں ایک جہان معنی آباد ہے اسی طرح گوئے کے بیساختہ پن میں بھی حقائق واسرار جلوہ افروز ہیں ۔ دونوں نے امیر وغریب سے خراج تحسین وصول کیا۔ دونوں نے اپنے اپنے وقت کے عظیم الشان فاتحوں کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا ( یعنی حافظ نے تیمور کو اور گوئٹے نے نپولین کو ) اور دونوں عام تباہی اور بربادی کے زمانے میں طبیعت کے اندرونی اطمینان وسکون کو محفوظ رکھ کر اپنی قدیم ترنم ریزی جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔
خواجہ حافظ کے علاوہ گوئٹے اپنے تخیلات میں شیخ عطار ، سعدی، فردوسی اور عام اسلامی لٹریچر کا بھی منون احسان ہے۔ ایک آدھ جگہ ردیف و قافیہ کی قید سے غزل بھی لکھی ہے۔ اپنی زبان میں فارسی استعارات بھی ( مثلا گوہر اشعار‘ تیر مژگان زلف گرہ گیر ) بے تکلف استعمال کرتا ہے بلکہ فارسیت کے جوش میں امرد پرستی کی طرف اشارات کرنے سے بھی احتراز نہیں کرتا۔ دیوان کے مختلف حصوں کے نام بھی فارسی ہیں۔ مثلا مغنی نامه، ساقی نامه، عشق نامه، تیمور نامه حکمت نامہ وغیرہ۔ باوجود ان سب باتوں کے گوئے کسی فارسی شاعر کا مقلد نہیں اور اس کی شاعرانہ فطرت قطعا آزاد ہے۔ مشرق کے لالہ زاروں میں اس کی نوا پیرائی محض عارضی ہے۔ وہ اپنی مغربیت کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور اس کی نگاہ صرف انہیں مشرقی حقائق پر پڑتی ہے، جن کو اس کی مغربی فطرت جذب کر سکتی ہے۔
مجھی تصوف سے اسے مطلق دلچپسی نہ تھی اور گوا سے یہ بات معلوم تھی کہ مشرق میں خواجہ حافظ کے اشعار کی تفسیر تصوف کے نقطہ نگاہ سے کی جاتی ہے، وہ خود تغزل محض کا دلدادہ تھا اور کلام حافظ کی صوفی تعبیر سے اسے کوئی ہمدردی نہ تھی ۔ مولانا روم کے فلسفیانہ حقائق و معارف اس کے نزدیک مہم تھے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس نے رومی کے کلام پر غائر نگاہ نہیں ڈالی کیونکہ جو شخص سیونوزا( ہالینڈ کا ایک فلسفی جو مسئلہ وحدت الوجود کا قائل تھا ) کا مداح ہو اور جس نے برونو (اٹلی کا ایک وجودی فلسفی ) کی حمایت میں قلم اٹھایا ہو اس سے ممکن نہیں کہ رومی کا معترف نہ ہو۔
ے خواجہ حافظ اور تیمور کی ملاقات کی روایت صحیح نہیں معلوم ہوتی کیونکہ خواجہ کا انتقال تیموری فتح شیراز سے پہلے ہو چکا ہے۔
غرضیکہ مغربی دیوان“ کی وساطت سے گوئے نے جرمن ادبیات میں عجمی روح پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ بعد کے شعراء پلائن، روکرٹ اور بوڈن سٹاٹ نے اس مشرقی تحریک کو جس کا آغاز گوئٹے کے دیوان سے ہوا، تکمیل تک پہنچایا۔ پلاٹن نے ادبی اغراض کے لئے فارسی زبان سیکھی۔ قافیہ ردیف بلکہ ایرانی عروض کے قواعد کی پابندی سے غزلیں لکھیں۔ رباعیاں لکھیں اور نپولین پر ایک قصیدہ بھی لکھا۔ گوئٹے کی طرح فارسی استعارات مثلا عروس گل زلف مشکیں لالہ عذار“ کو یہ بھی بے تکلف استعمال کرتا ہے اور تغزل محض کا دلدادہ ہے۔
روکرٹ عربی ، فارسی ،سنسکرت تینوں زبانوں کا ماہر تھا۔ اس کی نگاہ میں فلسفہ رومی کی بڑی وقعت تھی اور اس کی غزلیات زیادہ تر مولانا روم ہی کی تقلید میں لکھی گئی ہیں۔ چونکہ السنہ مشرقیہ کا عالم تھا اس لئے اس کی مشرقی نظم کے مواخذ بھی وسیع تر تھے۔ مخزن الاسرار نظامی ، بہارستان جامی، کلیات امیر خسرو گلستان سعدی، مناقب العارفین ، عیار دانش ، منطق الطیر ، ہفت قلزم وغیرہ جہاں جہاں سے حکمت کے موتی ملتے ہیں رول لیتا ہے بلکہ اسلام سے پہلے کی ایرانی روایات و حکایات سے بھی اپنے کلام کو زینت دیتا ہے۔ اسلامی تاریخ کے بعض واقعات بھی اس نے خوب نظم کیے ہیں۔ مثلاً محمود غزنوی کی موت محمود کا حملہ سومنات، سلطانہ رضیہ وغیرہ۔ گوئٹے کے بعد مشرقی رنگ کا سب سے زیادہ مقبول شاعر بوڈن سٹاٹ ہے جس نے اپنی نظموں کو مرزا شفیع کے فرضی نام سے شائع کیا۔ یہ چھوٹا سا مجموعہ اس قدر مقبول ہوا کہ تھوڑی ہی مدت میں ۱۴
۰ دفعہ شائع ہوا۔ اس شاعر نے نجمی روح کو اس خوبی سے جذب کیا ہے کہ جرمنی میں مرزا شفیع کے اشعار کو لوگ دیر تک فارسی نظم کا ترجمہ تصور کرتے رہے۔ بوڈن سٹاٹ نے امیرمعزی اور انوری سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے گوئٹے کے مشہور معاصر ہانا کا ذکر ارادتا نہیں کیا۔ اگر چہ اس کے مجموعہ اشعار موسوم بہ اشعار تازہ میں عجمی اثر نمایاں ہے اور محمود و فردوسی کے قصے کو بھی اس نے نہایت خوبی سے نظم کیا ہے تا ہم بحیثیت مجموعی مشرقی تحریک سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور اس کی رائے میں گوئٹے کے مغربی دیوان کے سوائے جرمن شعرا کا مشرقی کلام کوئی بڑی وقعت نہیں رکھتا ۔ لیکن عجمی جادو کی گرفت سے جرمنی کے اس آزادہ رو شاعر کا دل بھی بیچ نہ سکا چنا نچہ ایک مقام پر اپنے آپ کو عالم خیال میں ایک ایرانی شاعر تصور کرتے ہوئے جس کو جرمنی میں جلاوطن کر دیا گیا ہولکھتا ہے۔
اے فردوسی! اے جامی ! اے سعدی ! تمہارا بھائی زندان غم میں اسیر شیراز کے پھولوں کے لئے تڑپ رہا ہے۔ کم درجے کے شعرا میں خواجہ حافظ کا مقلد ڈومر، ہرمن سٹال، لوشکے ، سٹالگ لڑز لنٹ ہولڈ اور فان شاک بھی قابل ذکر ہیں۔ موخر الذکر علمی دنیا میں اونچا پا یہ رکھتا تھا۔ اس کی نظمیں قصہ انصاف محمود غزنوی اور قصہ ہاروت و ماروت مشہور ہیں اور بحیثیت مجموعی اس کے کلام میں عمر خیام کا اثر زیادہ نمایاں ہے۔ لیکن مشرقی تحریک کی پوری تاریخ لکھنے اور جرمن اور ایرانی شعرا کا تفصیلی مقابلہ کر کے مجھی اثرات کی صحیح وسعت معلوم کرنے کے لئے ایک طویل مطالعہ کی ضرورت ہے
جس کے لئے نہ وقت میسر ہے نہ سامان ممکن ہے کہ یہ مختصر سا خا کہ کسی نوجوان کے دل میں تحقیق و تدقیق کا جوش پیدا کر دے۔ پیام مشرق کے متعلق جو مغربی دیوان سے سو سال بعد لکھا گیا ہے مجھے کچھ عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔ ناظرین خود اندازہ کر لیں گے کہ اس کا مدعا زیادہ تر ان اخلاقی مذہبی اور ملی حقائق کو پیش نظر لانا ہے جن کا تعلق افراد و اقوام کی باطنی تربیت سے ہے۔ اس سے سو سال پیشتر کی جرمنی اور مشرق کی موجودہ حالت میں کچھ نہ کچھ مماثلت ضرور ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقوام عالم کا باطنی اضطراب جس کی اہمیت کا صحیح اندازہ ہم محض اس لئے نہیں لگا سکتے کہ خود اس اضطراب سے متاثر ہیں ایک بہت بڑے روحانی اور تمدنی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ یورپ کی جنگ عظیم ایک قیامت تھی جس نے پرانی دنیا کے نظام کے قریب ہر پہلو سے فنا کر دیا ہے اور
اب تہذیب و تمدن کی خاکستر سے فطرت زندگی کی گہرائیوں میں ایک نیا آدم اور اس کے رہنے کے لئے ایک نئی دنیا تعمیر کر رہی ہے جس کا ایک دھندلا سا خاکہ ہمیں حکیم آئن سٹائن اور برگسان کے تصانیف میں ملتا ہے۔
یورپ نے اپنے علمی اخلاقی اور اقتصادی نصب العین کے خوفناک نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں اور سائز ینٹی ( سابق وزیر اعظم اطالیہ ) سے انحطاط فرنگ“ کی دلخراش داستان بھی سن لی ہے لیکن افسوس ہے کہ اس کے نکتہ رس مگر قدامت پر ست مد برین اس حیرت انگیز انقلاب کا شیح اندازہ نہیں کر سکے جو انسانی ضمیر میں اس وقت واقع ہو رہا ہے۔ خالص ادبی اعتبار سے دیکھیں تو جنگ عظیم کی کوفت کے بعد یورپ کے قوائے حیات کا اضمحلال ایک صحیح اور پختہ ادبی نصب العین کی نشو و نما کے لئے نا مساعد ہے۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ اقوام کی طبائع پر وہ فرسودہ ، ست رگ اور زندگی کی دشواریوں سے گریز کرنے والی عجمیت غالب نہ آجائے جو جذبات قلب کو افکار دماغ سے متمیز نہیں کر سکتی ۔ البتہ امریکہ مغربی تہذیب کے عناصر میں ایک صحیح عصر معلوم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ یہ ملک قدیم روایات کی زنجیروں سے آزاد ہے اور اس کا اجتماعی وجدان نئے اثرات و افکار کو آسانی سے قبول کر سکتا ہے۔ مشرق اور بالخصوص اسلامی مشرق نے صدیوں کی مسلسل نیند کے بعد آنکھ کھولی ہے مگر اقوام شرق کو یہ محسوس کر لینا چاہیے کہ زندگی اپنے حوالی میں کسی قسم کا انقلاب پیدا نہیں کر سکتی جب تک کہ پہلے اس کی اندرونی گہرائیوں میں انقلاب نہ ہو اور کوئی نئی دنیا خارجی وجود اختیار نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کا وجود پہلے انسانوں کے ضمیر میں متشکل نہ ہو۔ فطرت کا یہ اٹل قانون جس کو قرآن نے اِن اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيرُ وا مَا بِأَنْفُسِهِمْ کے سادہ اور بلیغ الفاظ میں بیان کیا ہے۔
زندگی کے فردی اور
اجتماعی دونوں پہلوؤں پر حاوی ہے اور میں نے اپنے فارسی تصانیف میں اس صداقت کو مد نظر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت دنیا میں اور بالخصوص ممالک مشرق میں ہر ایسی کوشش جس کا مقصد افراد و اقوام کی نگاہ کو جغرافی حدود سے بالا تر کر کے ان میں ایک صحیح اور قوی انسانی سیرت کی تجدید یا تولید ہو، قابل احترام ہے۔ اسی بنا پر میں نے ان چند اوراق کو اعلیٰ حضرت فرمانروائے افغانستان کے نام نامی سے منسوب کیا ہے کہ وہ اپنی فطری ذہانت و فطانت سے اس نکتے سے بخوبی آگاہ معلوم ہوتے ہیں اور افغانوں کی تربیت انہیں خاص طور پر مد نظر ہے۔ اس عظیم الشان کام میں خدا تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔ آخر میں اپنے دوست چودھری محمد حسین صاحب ایم اے کا سپاس گزار ہوں کہ انہوں نے ”پیام مشرق کے مسودات کو اشاعت کے لئے مرتب کیا اگر وہ یہ زحمت گوارا نہ کرتے تو غالباً اس مجموعے کی اشاعت میں بہت تعویق ہوتی۔
اقبال
Roman Urdu
Payam-e-Mashriq ki tasneef ka muharrik German hakeem-e-hayat Goye ka “Maghribi Diwan” hai jis ki nisbat Germany ka Israeeki shayar Hatna likhta hai.
Yeh aik guldasta-e-aqeedat hai jo Maghrib ne Mashriq ko bheja hai…
Is diwan se is amar ki shahadat milti hai ke Maghrib apni kamzor aur sard roohaniyat se bezar ho kar Mashriq ke seene se hararat ka mutalashi hai. Goye ka yeh majmooa-e-ashaar jo us ki behtareen tasaneef se hai aur jis ko us ne khud “Diwan” ke naam se mausoom kiya hai kin asraat ka nateejah tha aur kin halaat mein likha gaya? Is sawal ka jawab dene ke liye yeh zaroori hai ke mukhtasir taur par us tehreek ka zikr kiya jaye jis ko Almanvi adabiyat ki tareekh mein Tehreek-e-Mashriqi ke naam se yaad karte hain.
Mera qasd tha ke is dibache mein tehreek-e-mazkoor par kisi qadar tafseel se behas karoon ga magar afsos hai ke bohat sa mawaad jo is ke liye zaroori tha Hindustan mein dastiyab na ho saka. Paul Horn tareekh-e-adabiyat-e-Iran ke musannif ne apne aik mazmoon mein is amar par behas ki hai ke Goye kis had tak shuara-e-Faras ka mamnoon hai. Lekin risala Narwand Sud ka woh number jis mein mazmoon mazkoor shaya hua tha na Hindustan ke kisi kutub khane se mil saka na Germany se. Majbooran is dibache ki taleef mein kuch to guzashata mutalea ki yaad-dasht par bharosa karta hoon aur kuch Mister Charles Remy ke mukhtasir magar nihayat mufeed aur kaar-aamad risale par jo unhon ne is mauzoo par likha hai.
Ibtida-e-shabaab hi se Goye ki hama-geer tabiyat Mashriqi takhayyulat ki taraf mail thi. Strasbourg mein jahan woh qanoon ke mutalea mein masroof tha, us ki mulaqat German literature ki mashhoor aur qabil-e-ehtram shakhsiyat Herder se hui jis ki sohbat ke asraat ko Goye ne khud apni sawaneh mein tasleem kiya hai. Herder Farsi na jaanta tha lekin chunke ikhlaqi rang us ki tabiyat par ghalib tha is liye Saadi ki tasaneef se use nihayat gehri dilchaspi thi. Chunanche Gulistan ke baaz hisson ka us ne German zaban mein tarjuma bhi kiya hai.
Khwaja Hafiz ke rang se use chandaan lagao na tha. Apne muasireen ko Saadi ki taraf tawajjah dilate hue likhta hai: Hafiz ke rang mein hum bohat kuch naghma sarai kar chuke. Is waqt Saadi ke talammuz ki zaroorat hai. Lekin ba-wajood is dilchaspi ke jo Herder ko Mashriqi literature se thi us ke apne ashaar aur digar tasaneef par Mashriqi literature ka koi asar maloom nahin hota.
Ali haza al-qiyas Goye ka doosra muasir Schiller bhi jo Mashriqi tehreek ke aaghaz se pehle hi mar chuka tha, Mashriqi asraat se azad hai. Go is baat ko faramosh na karna chahiye ke us ke drama “Turan Dokht” ka plot Maulana Nizami ke afsana “Dukhtar-e-Padshah Aqleem-e-Chaharam (Haft Paikar)” se liya gaya hai. Jis ka aaghaz Maulana ne is she’r se kiya hai:
Guft kaz jumla wilayat-e-Roos
Bood shehre ba nekooi cho aroos
1812 mein Khan Bemer ne Khwaja Hafiz ke Diwan ka poora tarjuma shaya kiya aur is tarjume ki ishaat se German adabiyat mein Mashriqi tehreek ka aaghaz hua. Goye ki umr us waqt 65 saal ki thi aur yeh woh zamana tha jab German qaum ka inhitāt har pehlu se intiha tak pohanch chuka tha…
Malik ki siyasi tehreekon mein amali hissa lene ke liye Goye ki fitrat mauzoon na thi aur Europe ki aam hangama araiyon se bezar ho kar us ki be-tab aur buland parwaz rooh ne Mashriqi fiza ke aman-o-sukoon mein apne liye aik nasheman talaash kar liya. Hafiz ke tarannum ne us ke takhayyulat mein aik ba-hejaan azeem barpa kar diya jis ne aakhir kar Maghribi Diwan ki aik paidar aur mustaqil soorat ikhtiyar kar li.
Magar Van Bemer ka tarjuma Goye ke liye mahz aik muharrik hi na tha balke us ke ajeeb-o-ghareeb takhayyulat ka maakhaz bhi tha. Baaz jagah us ki nazm Khwaja ke ashaar ka azad tarjuma maloom hoti hai aur baaz jagah us ki quwwat-e-takhayyul kisi khaas misre ke asar se aik nai shahrah par par kar zindagi ke nihayat daqeeq aur gehre masael par roshni dalti hai.
Goye ka mashhoor sawaneh nigar Bielschowsky likhta hai: Bulbul-e-Shiraz ki naghma pardaziyon mein Goye ko apni hi tasveer nazar aati thi. Us ko kabhi kabhi yeh ehsaas bhi hota tha ke shayad meri rooh hi Hafiz ke paikar mein reh kar Mashriq ki sarzameen mein zindagi basar kar chuki hai…
Wohi zameeni musarrat, wohi aasmani muhabbat, wohi sadgi, wohi umq, wohi josh-o-hararat, wohi wus’at-e-mashrab, wohi kushada dili aur wohi quyoood-o-rusoom se azadi — gharz ke har baat mein hum use Hafiz ka misl paate hain.
Dono ne ameer-o-ghareeb se khiraj-e-tehseen wasool kiya. Dono ne apne apne waqt ke azeem-ul-shan fatehon ko apni shakhsiyat se mutasir kiya (yani Hafiz ne Taimur ko aur Goye ne Napoleon ko) aur dono aam tabahi aur barbaadi ke zamane mein tabiyat ke andarooni itminan-o-sukoon ko mehfooz rakh kar apni qadeem tarannum rezi jari rakhne mein kamyab rahe.
…
Aakhir mein apne dost Chaudhry Muhammad Hussain Sahib MA ka shukr guzar hoon ke unhon ne “Payam-e-Mashriq” ke musawwadat ko ishaat ke liye murattab kiya. Agar woh yeh zahmat gawara na karte to ghaliban is majmooe ki ishaat mein bohat taweel taakhir hoti.
Iqbal



