
(Payam-e-Mashriq-087) Mai-e-Baqi – Ghazal 28: Daleel Manzil Sou Qism Bad Amnam Awaiz
غزل نمبر ۲۸ دلیل منزل شو قسم بد امنم آویز



دلیلِ منزلِ شو، قسَم بہ دامنم آویز
شرر ز آتشِ نایم بہ خاکِ خویش آمیز
عروسِ لالہ برون آمد از سراچہء ناز
بیا کہ جانِ تو سوزم ز حرفِ شوق انگیز
Roman Urdu
Daleel-e-manzil-e-sho, qasam ba damanam aaweez
Sharar zi aatish-e-nayam ba khak-e-khwesh aameez
Aroos-e-lala baroon aamad az saracha-e-naz
Baya ki jaan-e-tu sozam zi harf-e-shauq angeez
اردو ترجمہ و تشریح:
اقبال فرماتے ہیں کہ اے منزلِ شوق کے مسافر! میں تیرا رہنما بنتا ہوں، تو میرا دامن تھام لے (یعنی میری فکر و شاعری کی پیروی کر)۔ میرے کلام کی بانسری (نائے) سے جو عشق کی خالص آگ نکل رہی ہے، اس کی ایک چنگاری اپنی خاکِ وجود میں شامل کر لے تاکہ تیرے اندر بھی وہ تڑپ پیدا ہو جائے۔ دیکھو! گلِ لالہ کی دلہن اپنے ناز کے حجرے سے باہر آ گئی ہے (یعنی حقائق و اسرار اب ظاہر ہو چکے ہیں)۔ آ! کہ میں اپنے شوق کو بھڑکانے والے کلام سے تیری روح کو اس عشق کی آگ میں تپا دوں جو تجھے کندن بنا دے۔

بہ ہر زمانہ بہ اسلوبِ تازہ می گویند
حکایتِ غمِ فرہاد و عشرتِ پرویز
اگرچہ زادہء ہندم، فروغِ چشمِ من است
ز خاکِ پاکِ بخارا و کابل و تبریز!
Roman Urdu
Ba har zamana ba usloob-e-taza mee goyand
Hikayat-e-gham-e-Farhad o ishrat-e-Parvez
Agarchay zada-e-Hindam, furogh-e-chashm-e-man ast
Zi khak-e-pak-e-Bukhara o Kabul o Tabreez
اردو ترجمہ و تشریح:
دنیا میں حق و باطل، یا عشقِ صادق اور ہوس کی کشمکش بہت پرانی ہے؛ ہر دور میں لوگ فرہاد کے دکھ (سچے عشق) اور پرویز کی عیش و عشرت (مادی طاقت و ہوس) کی کہانی نئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ اقبال پھر اپنی فکری نسبت کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ میری پیدائش ہندوستان کی مٹی سے ہوئی ہے (میں ہندی نژاد ہوں)، لیکن میری فکر اور میری آنکھوں کی روشنی ان علاقوں کی پاک مٹی سے ہے جو اسلامی تہذیب و تصوف کے مراکز رہے ہیں، جیسے بخارا، کابل اور تبریز۔ یعنی میرا ذہنی اور روحانی تعلق ہندی فلسفے کے بجائے خالص اسلامی اور رومی و عطار کے افکار سے ہے۔
مرکزی خیال:
اس غزل میں اقبال قاری کو اپنے کلامِ حق کی طرف بلا رہے ہیں تاکہ وہ اس سے عشقِ الٰہی کی تڑپ حاصل کر سکے۔ ساتھ ہی وہ اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ان کی شاعری کی بنیاد مشرق کے عظیم صوفیائے کرام کے افکار پر ہے۔




