(Payam-e-Mashriq-088) Mai-e-Baqi – Ghazal 29: Dar Jahan Dil Ma Door Qamar Paida Neest   غزل نمبر۲۹ در جهان دل ما دور قمر پیدا نیست

در جہانِ دلِ ما دورِ قمر پیدا نیست

انقلابیست ولے شام و سحر پیدا نیست

وائے آں قافلہ کز دونیِ ہمت میخواست

رہگزارے کہ درو پیچ خطر پیدا نیست

Roman Urdu

Dar jahan-e-dil-e-ma dore-qamar paida neest

Inqilabist walay shaam o sahar paida neest

Waye aan qafila kaz dooni-e-himmat mee khwast

Rah-guzare ki daro hech khatar paida neest

اردو ترجمہ و تشریح:

اقبال فرماتے ہیں کہ ہمارے دل کی جو کائنات ہے، اس میں مادی کائنات کی طرح چاند کی گردش (گھٹنا بڑھنا) اور وقت کا گزرنا موجود نہیں۔ وہاں ایک مسلسل انقلاب اور تڑپ کی کیفیت تو رہتی ہے، مگر وہ زمان و مکان (رات اور دن) کی قید سے آزاد ہے۔ دل کی دنیا ایک لافانی اور ابدی حالت کا نام ہے۔

دوسرے شعر میں وہ ان لوگوں پر افسوس کرتے ہیں جن کی ہمت اتنی پست ہے کہ وہ زندگی کے سفر کے لیے ایسا راستہ ڈھونڈتے ہیں جہاں کوئی خطرہ، کوئی مشکل یا کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ اقبال کے نزدیک ایسی سہل پسندی اور خطرات سے خالی زندگی موت کے برابر ہے؛ زندگی تو نام ہی جفا کشی اور مشکل پسندی کا ہے۔

بگذر از عقل و در آویز بہ موجِ یمِ عشق

کہ در آں جوئے تنک مایہ گہر پیدا نیست

آنچہ مقصودِ تگ و تازِ خیالِ من و تست

ہست در دیدہ و مانندِ نظر پیدا نیست

Roman Urdu

Bugzar az aqal o dar aaweez ba mauj-e-yam-e-ishq

Ki dar aan jooye tunak-maya guhar paida neest

Aanche maqsood-e-tag-o-taz-e-khayal-e-man o tust

Hast dar deeda o manind-e-nazar paida neest

اردو ترجمہ و تشریح:

عقل کی حدوں سے باہر نکل آؤ اور عشق کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی لہروں میں کود جاؤ، کیونکہ عقل کی یہ جو چھوٹی اور کم گہری ندی ہے، اس میں حقیقت کا موتی (دیدارِ الٰہی) نہیں پایا جا سکتا۔ عقل صرف ظاہری چیزوں تک محدود ہے جبکہ حقیقت عشق کے سمندر کی گہرائیوں میں ملتی ہے۔

وہ حقیقت جس کی تلاش میں میرا اور تمہارا تخیل دن رات بھاگ دوڑ کر رہا ہے، وہ کہیں باہر نہیں بلکہ تمہارے اپنے اندر ہی موجود ہے۔ وہ آنکھ کے اندر موجود تو ہے لیکن بالکل ویسے ہی نظر نہیں آتی جیسے آنکھ کی “بینائی” (نظر) خود آنکھ کو دکھائی نہیں دیتی۔ یعنی خدا انسان کے اتنا قریب ہے کہ اسے باہر کی دنیا میں تلاش کرنا فضول ہے، اسے اپنے اندر محسوس کرنا چاہیے۔

مرکزی خیال:

اس غزل میں اقبال نے دو بڑے نکات بیان کیے ہیں:

  1. مردِ مومن کی ہمت: زندگی خطرات سے کھیلنے کا نام ہے، بزدلوں کی طرح آسان راستوں کی تلاش کرنا پستیِ ہمت کی علامت ہے۔
  2. عقل بمقابلہ عشق: عقل حقیقت تک پہنچنے کا ادھورا ذریعہ ہے، جبکہ عشق وہ گہرا سمندر ہے جہاں سے معرفت کے موتی ملتے ہیں۔
Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *