(Payam-e-Mashriq-084) Mai-e-Baqi – Ghazal 25: Be Tawaza Khawab Adam Deedah Kashodan Natawan

غزل نمبر ۲۵  بے توازا خواب عدم دیدہ کشودن نتواں

بے تو از خوابِ عدم دیدہ کشودن نتواں

بے تو بودن نتواں، با تو نبودن نتواں

در جہاں است دلِ ما کہ جہاں در دلِ ماست

لب فروبند کہ ایں عقدہ کشودن نتواں

Roman Urdu

Be-tu az khwab-e-adam deeda kushoodan natawa’n

Be-tu boodan natawa’n, ba-tu naboodan natawa’n

Dar jahan ast dil-e-ma ki jahan dar dil-e-ma-st

Lab faru-band ki een uqda kushoodan natawa’n

اردو ترجمہ و تشریح

اقبال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ تیرے بغیر عدم (نیستی) کی نیند سے آنکھ کھولنا ممکن نہیں، یعنی تیرے حکم کے بغیر کسی وجود کا ہونا ممکن نہیں۔ تیرے بغیر ہم کچھ بھی نہیں (ہمارا ہونا محال ہے) اور تیرے ساتھ ہوتے ہوئے ہمارا فنا ہونا ممکن نہیں (کیونکہ روح اللہ کا نور ہے)۔ یہ ایک ایسی گتھی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ ہمارا دل اس کائنات میں ہے یا یہ پوری کائنات ہمارے دل کے اندر سمائی ہوئی ہے۔ اے انسان! اس معاملے میں خاموشی ہی بہتر ہے کیونکہ یہ عقدہ عقل سے حل نہیں ہو سکتا۔

دلِ یاراں ز نوا ہائے پریشانم سوخت

من ازاں نغمہ تپیدم کہ سرودن نتواں

اے صبا از تنک افشانیِ شبنم چہ شود

تب و تاب از جگرِ لالہ ربودن نتواں

Roman Urdu

Dil-e-yara’n zi nawa-haye pareshanam sokht

Man azan naghma tapeedam ki suroodan natawa’n

Ay saba az tunak afshani-e-shabnam che shawad

Tab o taab az jigar-e-lala raboodan natawa’n

اردو ترجمہ و تشریح:

میری بکھری ہوئی اور درد بھری آوازوں نے دوستوں کے دلوں کو تڑپا دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں خود اس نغمے کی تڑپ میں جل رہا ہوں جسے الفاظ میں بیان کرنا یا گانا ممکن ہی نہیں۔ (یعنی عشق کے وہ اسرار جو محسوس تو ہوتے ہیں پر بیان نہیں ہو سکتے)۔ پھر فرماتے ہیں کہ اے صبح کی ہوا! شبنم کے ہلکے سے چھڑکاؤ سے کیا ہوگا؟ گلِ لالہ کے جگر میں جو عشق کی آگ اور تپش ہے، اسے دنیا کی کوئی شبنم یا ٹھنڈک ختم نہیں کر سکتی۔ عشق کی آگ مٹائی نہیں جا سکتی۔

دل بحق بند و کشادے ز سلاطیں مطلب

کہ جبیں بر درِ ایں بتکدہ سودن نتواں

Roman Urdu

Dil ba-Haq band o kushade zi salateen matalab

Ki jabeen bar dar-e-een butkada soodan natawa’n

اردو ترجمہ و تشریح

اے مسلمان! اپنا دل صرف اللہ کی ذات سے جوڑ اور اپنی مشکلوں کا حل بادشاہوں اور دنیاوی طاقتوں سے مت مانگ۔ یاد رکھ، ایک سچے مومن کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ دنیاوی آقاؤں کے ان بت خانوں (ایوانوں) کی چوکھٹ پر اپنی پیشانی رگڑے یا سجدہ کرے۔ جس نے اللہ کے سامنے سر جھکا دیا، وہ دنیا کے سامنے سر نہیں اٹھاتا اور نہ ہی جھکتا ہے۔

مرکزی خیال:

اس غزل میں اقبال نے وحدت الوجود کے باریک نکتے، عشق کی لافانی تڑپ اور خودی (غیر اللہ کے سامنے نہ جھکنا) کا درس دیا ہے۔ ان کے نزدیک دنیاوی بادشاہوں سے امید رکھنا اپنی خودی کو بت پرستی کے برابر بیچنا ہے۔

Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *