(Payam-e-Mashriq-085) Mai-e-Baqi – Ghazal 26: Aen Gunbad-e-Meenai, Aen Pasti-o-Balai

  غزل نمبر ۲۶ این گنبد مینائی، این پستی و بالائی  

این گنبدِ مینائی، این پستی و بالائی

در شد بہ دلِ عاشق، با ایں ہمہ پہنائی

اسرارِ ازل جوئی؟ بر خود نظرے وا کن

یکتائی و بسیاری، پنہانی و پیدائی

Roman Urdu

Een gumbad-e-meenayi, een pasti o balayi

Dar shud ba dil-e-aashiq, ba een hama pehnayi

Asrar-e-azal joyi? Bar khud nazare wa kun

Yaktayi o bisyari, pinhani o payidayi

اردو ترجمہ و تشریح:

اقبال فرماتے ہیں کہ یہ نیلا آسمان (گنبدِ مینائی)، یہ زمین کی گہرائیاں اور بلندیوں کی وسعتیں اپنی تمام تر پہنائیوں کے باوجود ایک مومن اور عاشق کے دل میں سما جاتی ہیں۔ یعنی انسان کا دل کائنات سے زیادہ وسیع ہے۔ اگر تم ازل کے چھپے ہوئے راز جاننا چاہتے ہو تو باہر بھٹکنے کے بجائے اپنی خودی اور اپنے آپ پر نظر ڈالو؛ تم خود ہی وحدت (یکتائی) ہو اور تم ہی کثرت (بسیاری) ہو، تم ہی پوشیدہ حقیقت ہو اور تم ہی ظاہر نظر آنے والے وجود ہو۔ تمام کائناتی سچائیاں تمہارے اندر موجود ہیں۔

اے جانِ گرفتارم دیدی کہ محبت چیست؟

در سینہ نیا سائی، از دیدہ بروں آئی

برخیز کہ فروردیں افروخت چراغِ گل

برخیز و دمے بنشیں با لالہء صحرائی

Roman Urdu

Ay jaan-e-giriftaram deedi ki muhabbat chist

Dar seena nayasayi, az deeda baroon aayi

Barkhiz ki Farvardeen afrokht charagh-e-gul

Barkhiz o dame bansheen ba lala-e-sahrayi

اردو ترجمہ و تشریح:

اے میری محبت میں گرفتار جان! کیا تو نے دیکھ لیا کہ عشق کی حقیقت کیا ہے؟ یہ جذبہ جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو سینے میں نہیں سما پاتا اور آنسو بن کر آنکھوں سے چھلکنے لگتا ہے۔ اب اٹھ کہ بہار (فروردین) کا موسم آ گیا ہے اور اس نے چمن میں پھولوں کے چراغ روشن کر دیے ہیں۔ سستی چھوڑ اور ذرا باہر نکل کر صحرائی لالے کے ساتھ بیٹھ (یعنی فطرت اور عشق کے رنگوں کا مشاہدہ کر)۔

عشق است و ہزار افسوں، حسن است و ہزار آئیں

نے من بہ شمار آیم، نے تو بہ شمار آئی

صد رہ بہ فلک بر شد، صد رہ بہ زمیں در شد

خاقانی و فغفوری، جمشیدی و دارائی

Roman Urdu

Ishq ast o hazar afsoon, husn ast o hazar aayeen

Nay man ba shumar aayam, nay tu ba shumar aayi

Sad rah ba falak bar shud, sad rah ba zameen dar shud

Khaqani o Faghfoori, Jamshidi o Darayi

اردو ترجمہ و تشریح:

عشق کے ہزاروں جادو (کرشمے) ہیں اور حسن کے ہزاروں ناز و انداز ہیں۔ ان دونوں کی وسعت ایسی ہے کہ نہ میری گنتی ہو سکتی ہے اور نہ تیری (یعنی عاشق اور محبوب دونوں ہی بے انتہا مقامات رکھتے ہیں)۔ تاریخ گواہ ہے کہ خاقان، فغفور، جمشید اور دارا جیسے بڑے بادشاہوں کی شوکتیں سینکڑوں بار آسمان تک پہنچیں اور پھر سینکڑوں بار خاک میں مل گئیں۔ ثبات صرف عشق کو ہے، اقتدار تو مٹنے والی چیز ہے۔

ہم با خود و ہم با او ہجراں کہ وصال است ایں؟

اے عقل چہ می گوئی، اے عشق چہ فرمائی

Roman Urdu

Ham ba-khud o ham ba-oo hijra’n ki wisal ast een

Ay aqal che mee goyi, ay ishq che farmayi

اردو ترجمہ و تشریح:

یہ کیسی عجیب کیفیت ہے کہ انسان اپنی خودی میں بھی رہے (اپنے آپ کے ساتھ ہو) اور ساتھ ہی اللہ کی ذات میں بھی گم ہو؟ یہ جدائی کا مقام ہے یا ملاقات (وصال) کا؟ اے عقل! تو اس معمہ پر کیا کہتی ہے؟ اور اے عشق! تیرا اس بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ (یہاں اقبال عقل اور عشق کے درمیان اس باریک فرق کو واضح کر رہے ہیں جہاں انسان اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے بھی خالق سے جڑا رہتا ہے)۔

خلاصہ:

اس غزل میں اقبال نے انسان کو اپنی خودی پہچاننے، عشق کی تڑپ کو محسوس کرنے اور دنیاوی جاہ و جلال کی بے ثباتی کو سمجھنے کا درس دیا ہے۔

Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *