
(Payam-e-Mashriq-094) Mai-e-Baqi – Ghazal 35: Misl Aaeena Masho Mehw Jamal Dagran غزل نمبر ۳۵ مثل آئینه مشو محمد جمال دگراں



مثلِ آئینہ مشو محوِ جمالِ دگراں
از دل و دیدہ فروشوئے خیالِ دگراں
آتش از نالہء مرغانِ حرم گیر و بسوز
آشیانے کہ نہادی بہ نہالِ دگراں
Roman Urdu
Misl-e-aaina masho mehw-e-jamal-e-digara’n
Az dil o deeda faroshoye khayal-e-digara’n
Aatish az nala-e-murghan-e-haram geer o basoz
Ashiyane ki nahadi ba nihal-e-digara’n
اردو ترجمہ و تشریح:
اقبال فرماتے ہیں کہ اے مسلمان! تو آئینے کی طرح مت بن کہ جس کا اپنا کوئی نقش نہیں ہوتا اور وہ صرف دوسروں کے حسن کا محتاج ہوتا ہے۔ اپنی آنکھ اور دل سے غیروں کی تقلید اور ان کا رعب دھو ڈال۔ حرم کے پرندوں (اہلِ حق) کی تڑپ اور نالوں سے وہ آگ حاصل کر جس سے تو اس آشیانے کو جلا کر راکھ کر دے جو تو نے دوسروں کے لگائے ہوئے درختوں پر بنا رکھا ہے۔ مراد یہ ہے کہ غیروں کے سہارے جینا چھوڑ دے اور اپنی خودی کو پہچان۔

در جہاں بال و پرِ خویش کشودن آموز
کہ پریدن نتواں با پر و بالِ دگراں
مردِ آزادم و آں گونہ غیورم کہ مرا
می تواں کشت بہ یک جامِ زلالِ دگراں
Roman Urdu
Dar jahan baal o par-e-khwesh kushoodan amoz
Ki pareedan natawa’n ba par o baal-e-digara’n
Mard-e-azadam o aan goona ghayooram ki mara
Mee tawa’n kusht ba yak jaam-e-zulal-e-digara’n
اردو ترجمہ و تشریح:
اس دنیا میں اپنے پروں پر اڑنا سیکھ، کیونکہ دوسروں کے پروں سے کبھی بلندی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اقبال اپنی خودی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں ایک آزاد مرد ہوں اور اس قدر غیرت مند ہوں کہ دوسروں کے ہاتھ سے ملنے والا میٹھا اور صاف پانی کا ایک پیالہ بھی میری غیرت کو قتل کر سکتا ہے۔ یعنی کسی کا احسان اٹھانا ایک غیور انسان کے لیے موت کے برابر ہے۔

اے کہ نزدیک تر از جانی و پنہاں ز نگہ
ہجرِ تو خوشترم آید ز وصالِ دگراں
Roman Urdu
Ay ki nazdeek-tar az jaani o pinhari zi nigah
Hijr-e-tu khushtaram ayad zi wisal-e-digara’n
اردو ترجمہ و تشریح:
اے میرے رب! تو کہ میری جان سے بھی زیادہ قریب ہے (رگِ جاں کے پاس) مگر میری ان ظاہری آنکھوں سے چھپا ہوا ہے؛ تیری یاد میں تڑپنا اور تیرا یہ “ہجر” میرے لیے دوسروں کے “وصال” (میل ملاپ) سے کہیں زیادہ میٹھا اور بہتر ہے۔ تیرے عشق کی دوری میں جو تڑپ ہے، وہ دنیا کی ہر آسائش سے بڑھ کر ہے۔
مرکزی خیال:
اس غزل کا خلاصہ خودی اور غیرت ہے۔ اقبال پیغام دے رہے ہیں کہ مسلمان کو دوسروں کی فکری اور مادی غلامی چھوڑ کر اپنے اندر کی آگ کو بیدار کرنا چاہیے اور صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔




