
(Payam-e-Mashriq-095) Mai-e-Baqi – Ghazal 36: Jahan Ishq Na Meri Na Sarwari Danad غزل نمبر ۳۶ جہان عشق نہ میری نه سروری داند



جہانِ عشق نہ میری نہ سروری داند
ہمیں بس است کہ آئینِ چاکری داند
نہ ہر کہ طوفِ بُتے کرد و بست زنارے
صنم پرستی و آدابِ کافری داند
Roman Urdu
Jahan-e-ishq na meeri na sarwari danad
Hamein bas ast ki aaeen-e-chakari danad
Na har ki tauf-e-bute kard o bast zunnare
Sanam parasti o aadab-e-kafiri danad
اردو ترجمہ و تشریح:
عشق کی دنیا دنیاوی امیری، سرداری یا بادشاہی کو نہیں مانتی؛ اس کے نزدیک اصل کمال یہ ہے کہ انسان بندگی اور خدمت (چاکری) کے آداب سے واقف ہو جائے۔ یعنی عشق میں حاکم وہی ہے جو مٹنا جانتا ہو۔
دوسرے شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو کسی بت کے گرد گھوم لیا یا جس نے کمر پر زنار (جنیو) باندھ لیا، ضروری نہیں کہ وہ بت پرستی اور کفر کے حقیقی آداب و رموز سے بھی واقف ہو۔ مراد یہ ہے کہ کسی بھی راستے (چاہے وہ کفر ہو یا اسلام) پر چلنے کے لیے اس کے باطنی آداب کی معرفت ضروری ہے، محض ظاہری شکل اختیار کر لینا کافی نہیں۔

ہزار خیبر و صد گونہ اژدر است اینجا
نہ ہر کہ نانِ جویں خورد حیدری داند
بچشمِ اہل نظر از سکندر افزوں است
گدا گرے کہ مآلِ سکندری داند
Roman Urdu
Hazar Khaibar o sad goona azhdar ast inja
Na har ki naan-e-javeen khurd Haidari danad
Ba-chashm-e-ahl-e-nazar az Sikandar afzoon ast
Gada-gare ki ma’al-e-Sikandari danad
اردو ترجمہ و تشریح:
زندگی کی راہ میں ہزاروں قلعہء خیبر جیسی مشکلات اور سینکڑوں اژدہے (فتنے) موجود ہیں۔ محض جو کی روٹی کھا لینے سے کوئی “حیدرِ کرار” (حضرت علیؓ) نہیں بن جاتا۔ حیدری پانے کے لیے اس قوتِ ایمانی اور عشقِ رسولؐ کی ضرورت ہے جو حضرت علیؓ کا خاصہ تھی۔
اہلِ نظر (عقل مندوں) کی نظر میں وہ فقیر اس عظیم فاتح سکندرِ اعظم سے کہیں بلند مرتبہ ہے جو بادشاہت اور دنیاوی جاہ و جلال کے عبرت ناک انجام (مآل) کو جانتا ہو اور اس سے بے نیاز ہو۔

بہ عشو ہ ہائے جوانانِ ماہ سیما چیست
در آ بہ حلقہء پیرے کہ دلبری داند
فرنگ شیشہ گری کرد و جام و مینا ریخت
بحیرتم کہ ہمیں شیشہ را پری داند!
Roman Urdu
Ba-ushwa haye javanan-e-mah-seema chist
Dar aa ba halqa-e-peere ki dilbari danad
Farang sheesha-gari kard o jam o meena rekht
Ba-hairatam ki hameen sheesha ra pari danad!
اردو ترجمہ و تشریح:
ظاہری خوبصورتی اور چاند جیسے چہرے والے جوانوں کی اداؤں میں کوئی پائیدار حقیقت نہیں ہے۔ اگر سچی کشش اور دل جیت لینے کا ہنر سیکھنا ہے تو کسی ایسے “پیرِ کامل” (مرشد) کی محفل میں بیٹھو جو دلوں کو مسخر کرنے کا روحانی فن جانتا ہو۔
اہلِ مغرب (فرنگ) نے اپنی سائنسی ایجادات اور مادی تہذیب سے شیشے کے جام اور بوتلیں تو بنا لیں، لیکن مجھے حیرت ہے کہ وہ اس مادی “شیشے” (مشینوں اور ظواہر) کو ہی اپنی “پری” (مقصودِ حیات) سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ روح کو چھوڑ کر صرف مادے کے دیوانے ہو گئے ہیں۔

گویمت ز مسلماں نامسلمانی جز ایں
کہ پورِ خلیل است و آزری داند
بہ غمکدہ من گزر کن و بنگر
ستارہ سوختہء کیمیا گری داند!
Roman Urdu
Goyamat zi Musalman na-musalmani juz een
Ki poor-e-Khaleel ast o Azari danad
Ba-gham-kada-e-man guzar kun o bingar
Sitara-sokhta-e-keemiya-gari danad
اردو ترجمہ و تشریح:
آج کے مسلمان کی بے عملی کا کیا حال بتاؤں؟ بس یوں سمجھ لو کہ وہ ہے تو حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی اولاد (ملتِ ابراہیمی کا وارث)، لیکن اس کا کام آزر (بت تراش) جیسا ہے، یعنی وہ توحید کا دعویدار ہو کر بھی مادی بتوں کی پرستش میں مگن ہے۔
پھر فرماتے ہیں کہ کبھی میری اس تنہائی اور غمکدے میں آ کر دیکھو؛ یہاں ایک ایسا بدقسمت (ستارہ سوختہ) شخص رہتا ہے جو مٹی کو سونا بنانے کا فن (کیمیا گری یعنی دلوں کو بدلنے کی تاثیر) جانتا ہے، مگر اپنی قوم کی بے حسی پر رنجیدہ ہے۔

بیا بہ مجلسِ اقبال و یک دو ساغر کش
اگرچہ سر نتراشد، قلندری داند
Roman Urdu
Baya ba majlis-e-Iqbal o yak do saghar kash
Agarchay sar na-tarashad, qalandari danad
اردو ترجمہ و تشریح:
آؤ! اقبال کی اس فکری محفل میں بیٹھو اور اس کے کلام کے ایک دو جام پی کر دیکھو۔ اگرچہ اقبال نے مروجہ قلندروں کی طرح سر نہیں منڈوایا (یعنی وہ ظاہری صوفیانہ وضع قطع نہیں رکھتا)، لیکن وہ قلندری کی اصل حقیقت اور اس کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف ہے۔
مرکزی خیال:
اس غزل میں اقبال نے ظاہری رسومات کے مقابلے میں باطنی حقیقت کی اہمیت واضح کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حیدری، سکندری یا قلندری لباس یا خوراک کا نام نہیں بلکہ یہ ایک خاص کیفیتِ قلب اور عشق کا نام ہے۔




