(Payam-e-Mashriq-096) Mai-e-Baqi – Ghazal 37: Khawajah Neest Ke Choon Banda Parastarish Neest

  غزل نمبر۳۷ خواجه نیست که چون بنده پرستارش نیست 

خواجہ نیست کہ چوں بندہ پرستارش نیست

بندہ نیست کہ چوں خواجہ خریدارش نیست

گرچہ از طور و کلیم است بیانِ واعظ

تابِ آں جلوہ بآئینہء گفتارش نیست

Roman Urdu

: Khawajah neest ki choon banda parastarish neest 

Banda neest ki choon khawajah khareedarish neest 

Garcha az Toor o Kaleem ast bayan-e-waiz 

Taab-e-aan jalwa ba-aaina-e-guftarish neest

اردو ترجمہ و تشریح:

اقبال فرماتے ہیں کہ کائنات میں کوئی ایسا آقا یا امیر نہیں جو درحقیقت خود کسی کا غلام (اللہ کا بندہ) نہ ہو، اور کوئی ایسا بندہ نہیں جو اپنے اندر آقائی اور خودی کی تڑپ (خدا کا خریدار ہونا) نہ رکھتا ہو۔ یعنی انسانیت کا اصل رشتہ اللہ سے ہے جہاں ہر آقا بندہ ہے اور ہر بندہ اپنے رب کا طالب ہے۔

دوسرے شعر میں واعظ (مذہبی مبلغ) پر چوٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ اس کی تقریر حضرت موسیٰؑ، کوہِ طور اور تجلیِ الٰہی کے قصوں سے بھری ہوتی ہے، لیکن اس کی اپنی گفتگو کے آئینے میں وہ اصلی چمک اور اثر موجود نہیں ہوتا جو صاحبِ مشاہدہ کا خاصہ ہے۔ اس کی باتیں صرف سنی سنائی ہیں، اس نے خود اس جلوے کو محسوس نہیں کیا۔

پیرِ ما مصلحتاً رو بہ مجاز آورد است

ورنہ با زہرہ وشاں ہیچ سروکارش نہیں

دل باو بند و ازیں خرقہ فروشاں بگریز

نشوی صیدِ غزالے کہ ز تاتارش نیست

Roman Urdu

 Peer-e-ma maslahatan ru ba majaz awarda ast 

Warna ba Zohra-vashaan hech sar-o-karish neest 

Dil ba-oo band o azeen khirqa-faroshaan bugreez 

Nashwi sayd-e-ghazale ki zi Tatarish neest

اردو ترجمہ و تشریح:

اقبال طنزیہ طور پر کہتے ہیں کہ ہمارے دور کے پیروں نے مصلحت کی بنا پر “مجاز” (دنیاوی رنگ و بو) کا رخ کر لیا ہے، ورنہ ان کا حسن سے کوئی حقیقی تعلق نہیں (یعنی وہ دنیا داری میں اس قدر غرق ہیں کہ ان کا روحانیت سے تعلق واجبی رہ گیا ہے)۔

تم اپنا دل صرف اس حقیقی محبوب (اللہ) سے لگاؤ اور ان دکھاوے کے درویشوں (خرقہ فروشوں) سے دور بھاگو۔ خبردار! کسی ایسے ہرن کا شکار مت ہونا (کسی ایسے پیر کے چنگل میں مت پھنسنا) جو تاتار (خدا کی بستی) کا نہ ہو۔ مراد یہ کہ جس کے پاس مشکِ معرفت (خدا سے تعلق) نہ ہو، وہ مریدی کے لائق نہیں۔

نغمہء عافیت از بربطِ من می طلبی؟

از کجا برکشم آں نغمہ کہ در تارش نیست

دلِ ما قشقہ زد و برہمنی کرد ولے

آں چناں کرد کہ شایستہء زنارش نیست!

Roman Urdu

: Naghma-e-aafiyat az barbat-e-man mee talabi? 

Az kuja barkasham aan naghma ki dar tarish neest 

Dil-e-ma qashqa zad o Brahmani kard walay 

Aan chunan kard ki shayasta-e-zunnarish neest!

اردو ترجمہ و تشریح:

تم میری بانسری یا ساز (شاعری) سے امن و سکون اور میٹھے گیتوں کی امید رکھتے ہو؟ میں وہ نغمہ کہاں سے لاؤں جس کا تار ہی میرے ساز میں موجود نہیں؟ اقبال کی شاعری سکون کی نہیں بلکہ بے چینی، تڑپ اور انقلاب کی شاعری ہے۔

ہمارے دل نے (عشق میں آ کر) ماتھے پر قشقہ بھی لگایا اور برہمن بھی بنا (یعنی عشق میں حد سے گزر گیا)، لیکن افسوس کہ اس نے وہ کام کیے جو اس “زنار” (عشق کے عہد) کے لائق نہ تھے۔ یعنی ہم سچے عاشق یا سچے کافر بھی نہ بن سکے۔

عشق در صحبتِ می خانہ بہ گفتار آید

زانکہ در دیر و حرم محرمِ اسرارش نیست

Roman Urdu

Ishq dar suhbat-e-may-khana ba guftar ayad 

Zanki dar dair-o-haram mahram-e-asrarish neest

اردو ترجمہ و تشریح:

عشق کے بھید اور اس کی سچی گفتگو صرف “میخانے” (اہلِ دل اور صوفیا کی محفل) میں ہی سنائی دیتی ہے، کیونکہ مسجد اور مندر (ظاہری عبادت گاہوں) میں اس کے رازوں کو سمجھنے والا کوئی محرمِ راز موجود نہیں۔ وہاں صرف رسم و راہ کی عبادت ہے، جبکہ عشق کی اصل حقیقت جذب و مستی میں پوشیدہ ہے۔

مرکزی خیال:

اس غزل میں اقبال نے ریاکاری، بے عمل واعظین اور جھوٹے پیروں پر تنقید کی ہے۔ وہ انسان کو نصیحت کرتے ہیں کہ ظاہری عبادات اور رسومات کے بجائے عشقِ حقیقی اور سوزِ دروں پیدا کرے اور ان لوگوں کی صحبت اختیار کرے جن کے پاس سچی معرفت ہو۔

Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *