
(Payam-e-Mashriq-116) Nietzsche نیٹشا


از سستیِ عناصرِ انساں دلش تپید
فکرِ حکیم پیکرِ محکم تر آفرید
افگند در فرنگ صد آشوبِ تازہ ای
دیوانہ ای بکارگہِ شیشہ گر رسید!
Roman Urdu Translation
Az susti-e-anasir-e-insan dilash tapeed
Fikr-e-hakeem paikar-e-muhkam tar afreed
Afgand dar Farang sad aashoob-e-taza ay
Deewana ay ba-kargah-e-sheesha-gar raseed
English Translation
His heart trembled at the frailty of human nature; the philosopher’s thought created a more robust and powerful form. He unleashed a hundred new turmoils in Europe—as if a madman had burst into a glassblower’s workshop!
Urdu Translation
پہلا حصہ:
اقبال فرماتے ہیں کہ نیٹشا جب اپنے دور کے انسانوں کو دیکھتا تھا، تو ان کی اخلاقی کمزوری، بزدلی اور پست ہمتی دیکھ کر اس کا دل تڑپ اٹھتا تھا۔ اسے انسانوں کا یہ “بودا پن” اور سستی پسند نہیں تھی۔ چنانچہ اس مفکر (حکیم) نے اپنی فکر کے ذریعے ایک نہایت طاقتور اور مضبوط انسان کا تصور پیش کیا، جسے وہ “مردِ برتر” (Superman) کہتا ہے۔ اس نے چاہا کہ انسان اپنی کمزوریوں کو چھوڑ کر اپنی قوت اور خودی کو پہچانے۔
دوسرا حصہ:
نیٹشا کے ان انقلابی اور باغیانہ افکار نے پورے یورپ (فرنگ) میں فکری طور پر سینکڑوں نئے ہنگامے اور طوفان کھڑے کر دیے۔ اس کی مثال اقبال نے بہت خوبصورت دی ہے کہ نیٹشا کی مثال اس “دیوانے” کی سی ہے جو کسی شیشہ گر کے کارخانے میں گھس آیا ہو۔ جس طرح ایک دیوانہ شیشے کے برتنوں کے نازک کارخانے میں سب کچھ توڑ پھوڑ دیتا ہے، اسی طرح نیٹشا نے اپنی کڑی تنقید سے مغرب کے پرانے، نازک اور فرسودہ خیالات و اخلاقیات کے شیش محل کو پاش پاش کر دیا۔
خلاصہ
Urdu
اس نظم میں اقبال نے نیٹشا کی جراتِ فکر کو سراہا ہے جس نے بزدلانہ اخلاقیات کو رد کر کے “قوت” اور “عظمتِ انسانی” کا نعرہ لگایا۔ اگرچہ اس کے طریقے “دیوانہ وار” تھے، لیکن اس نے مغرب کے فرسودہ فکری نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
English
In this poem, Iqbal acknowledges Nietzsche’s radical genius. Disgusted by the moral weakness of his era, Nietzsche introduced the concept of the “Superman.” His philosophy was so destructive to old, fragile Western traditions that Iqbal compares him to a madman smashing everything in a glass factory—painful but revolutionary.




