(Payam-e-Mashriq-103) Mai-e-Baqi – Ghazal 44: Shoala Dar Aghosh Darad Ishq Be Parwaye Mann

غزل نمبر ۴۴ شعلہ در آغوش دارد عشقِ بے پروائے من

شعلہ در آغوش دارد عشقِ بے پروائے من

برنخیزد یک شرار از حکمتِ نازائے من

چوں تمام افتد سراپا ناز می گردد نیاز

قیس را لیلی ہمی نامند در صحرائے من

Roman Urdu Translation

Shoala dar aghosh darad ishq-e-be-parwaye man

Barnakhezad yak sharar az hikmat-e-nazaye man

Choon tamam uftad sarapa naaz mee gardad niyaz

Qais ra Laila hamee namand dar sahraye man

English Translation

My carefree love carries a blazing fire within its embrace

While my barren intellect cannot spark even a single flame of wisdom

When devotion reaches its pinnacle, the seeker becomes the manifestation of the sought

In the vast desert of my passion, Majnun (Qais) is perceived as Laila herself

Urdu Translation:

اقبال اپنے جذبہِ عشق کی برتری بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرا عشق اس قدر طاقتور اور بے باک ہے کہ اس کے سینے میں ہر وقت انقلاب کی آگ روشن رہتی ہے۔ اس کے برعکس میری عقل بانجھ ہو چکی ہے، جس سے دانائی کی ایک چنگاری بھی پیدا نہیں ہوتی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جب کسی عاشق کی بندگی اور نیاز مندی اپنے کمال کو پہنچتی ہے، تو وہ محبوب کی صفات میں ایسا رنگ جاتا ہے کہ دونوں کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ میرے عشق کی دنیا میں تو اب عاشق (قیس) کو ہی محبوب (لیلیٰ) پکارا جانے لگا ہے۔

بہرِ دہلیزِ تو از ہندوستان آوردہ ام

سجدہ شوقے کہ خوں گردید در سیمائے من

تیغِ لا در پنجہء ایں کافرِ دیرینہ دہ

باز بنگر در جہاں ہنگامہء الاّئے من

Roman Urdu Translation

Bahr-e-dehleez-e-tu az Hindustan awarda am

Sajda-e-shauqay ki khoon gardeed dar seemaye man

Tegh-e-la dar panja-e-een kafar-e-deereena deh

Baaz bingar dar jahan hangama-e-Illaye man

English Translation

To your sacred doorstep, I have brought all the way from India

A prostration of longing that has turned into blood upon my forehead

Place the sword of “No” (La – rejection of false gods) in the grip of this ancient infidel heart

Then witness the grand spectacle of “But Allah” (Illa – Divine Unity) I raise across the world

Urdu Translation:

شاعر حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں بڑے ادب سے عرض کرتے ہیں کہ میں ہندوستان کی سرزمین سے آپ کی چوکھٹ کے لیے ایک ایسا سجدہِ شوق لایا ہوں جس کی تڑپ نے میری پیشانی میں لہو بھر دیا ہے۔ وہ التجا کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ! میرے اس منکر دل (نفس) کو کلمہ طیبہ کے پہلے جز “لا” کی طاقتور تلوار عطا کر دیں، تاکہ میں باطل کا خاتمہ کر سکوں۔ پھر آپ ﷺ ملاحظہ فرمائیں کہ میں کس طرح پوری دنیا میں اللہ کی واحدانیت (الا اللہ) کا ڈنکا بجاتا ہوں۔

گردشے باید کہ گردوں از ضمیرِ روزگار

دوشِ من باز آرد اندر کسوتِ فردائے من

از سپہرِ بارگاہت یک جہاں وافر نصیب

جلوہ داری، دریغ از وادیِ سینائے من؟

Roman Urdu Translation

Gardishay bayad ki gardoon az zameer-e-rozgar

Dosh-e-man baaz aarad andar kiswat-e-fardaye man

Az sipher-e-bargahat yak jahan wafer naseeb

Jalwa daree, dareegh az wadi-e-Seenaye man

English Translation

A revolution is needed for the heavens to retrieve from the soul of time

My glorious past and wrap it in the attire of my future destiny

An entire world draws light from the sky of your majestic presence

With such boundless radiance, why is my humble valley of Sinai kept in the dark

Urdu Translation:

اقبال وقت کے بدلتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ کاش کوئی ایسی گردشِ ایام آئے جو ہمارے شاندار ماضی کو دوبارہ ہمارے مستقبل کی زینت بنا دے۔ وہ فریاد کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے تو ساری دنیا فیضیاب ہو رہی ہے اور آپ ﷺ نورِ ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ میری وادیِ سینا (میرا وجود) آپ ﷺ کی تجلیات اور نظرِ کرم سے اب تک محروم ہے؟ مجھے بھی اپنے فیض سے مالا مال کر دیجیے۔

با خدا در پردہ گویم، با تو گویم آشکار

یا رسول اللہ! او پنہاں و تو پیدائے من!

Roman Urdu Translation

Ba-Khuda dar parda goyam, ba tu goyam ashkaar

Ya Rasul Allah! Oo pinhann o tu paydaye man

English Translation

I speak to God in whispers and veils, but to you, I speak with total openness

O Messenger of Allah! He is the Hidden Reality, but you are my Manifest Reality

Urdu Translation:

یہ غزل کا مقطع اور سب سے متاثر کن شعر ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے تو اپنی راز و نیاز کی باتیں پردے میں (خاموشی سے) کرتا ہوں، لیکن اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ کے سامنے میں سب کچھ کھل کر اور برملہ عرض کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات میری ظاہری آنکھوں سے پوشیدہ ہے جبکہ آپ ﷺ کی سیرت، ذات اور اسوہ میرے لیے ایک واضح اور روشن حقیقت ہے جس کے ذریعے میں نے خدا کو پہچانا۔

مرکزی خیال:

اس غزل میں اقبال نے عشقِ رسول ﷺ کو عقل پر فوقیت دی ہے اور اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کا ماضی پھر سے ان کا مستقبل بن جائے۔ وہ حضور ﷺ کے وسیلے سے خدا کی تجلیات کے طالب ہیں۔

Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *