
(Payam-e-Mashriq-104) Mai-e-Baqi – Ghazal 45: Butan Taza Tarasheeda Daraig Az Tu
غزل نمبر ۴٥ بتاںِ تازہ تراشیدہ ای، دریغ از تو



بتاںِ تازہ تراشیدہ ای، دریغ از تو
دروںِ خویش نہ کاویدہ ای، دریغ از تو
چناں گداختہ ای از حرارتِ افرنگ
ز چشمِ خویش تراویدہ ای، دریغ از تو
Roman Urdu Translation
Butan-e-taza tarasheeda-ee, daraigh az tu
Daroon-e-khuish na kaveeda-ee, daraigh az tu
Chunaan gudakhta-ee az hararat-e-Afrang
Zi chashm-e-khuish traveeda-ee, daraigh az tu
English Translation
You have carved for yourself new idols—alas for you
You have not searched within your own soul—alas for you
You have melted so much under the heat of the West
That you have leaked away as tears from your own eyes—alas for you
Urdu Translation:
اقبال مسلمانِ عصرِ حاضر پر افسوس کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تو نے پرانے بتوں کو چھوڑ کر مغرب کی مادی تہذیب کے نئے نئے بت (قومیت، وطنیت اور مادہ پرستی) تراش لیے ہیں، لیکن تو نے کبھی اپنے اندر جھانک کر اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں اور خودی کو تلاش نہیں کیا۔ تجھ پر افسوس ہے کہ تو اہل مغرب کی ظاہری چمک دمک اور ان کی تہذیب کے غلبے سے اس طرح مرعوب اور پگھل گیا ہے کہ اب تیری اپنی کوئی پہچان باقی نہیں رہی، تو اپنی ہی نظروں میں گر کر آنسو کی طرح بہہ چکا ہے۔ یعنی تو مکمل طور پر احساسِ کمتری کا شکار ہو گیا ہے۔

بکوچہ ای کہ دہد خاک را بہائے بلند
بہ نیم غمزہ نیرزیدہ ای، دریغ از تو
گرفتم ایں کہ کتابِ خرد فرو خواندی
حدیثِ شوق نہ فہمیدہ ای، دریغ از تو
Roman Urdu Translation
Ba-koocha-ay ki dehad khak ra bahaye buland
Ba neem ghamza nayarzeeda-ee, daraigh az tu
Giraftam een ki kitab-e-khirad furo khwandi
Hadees-e-shauq na fahmeeda-ee, daraigh az tu
English Translation
In a lane where even common dust fetches a high price
You were found not worth even a half-glance—alas for you
I admit that you have read the entire book of Intellect
But you never understood the discourse of Passion—alas for you
Urdu Translation:
شاعر فرماتے ہیں کہ مغرب کے اس بازار میں جہاں معمولی مٹی کی بھی بڑی قیمت لگائی جاتی ہے، تو وہاں اتنا ارزاں اور سستا بک گیا کہ کسی نے تجھے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ تو نے اپنی تہذیب بیچ دی مگر پھر بھی ان کی نظر میں معتبر نہ ہو سکا۔ اقبال کہتے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ تو نے مغرب کے سکولوں اور کالجوں میں فلسفہ اور سائنس کی بڑی بڑی کتابیں پڑھ لی ہیں اور تو عقل کا ماہر ہو گیا ہے، لیکن افسوس کہ تو عشقِ حقیقی اور عشقِ رسول ﷺ کی اس حقیقت سے بالکل بے خبر رہا جو انسان کو غیرت اور خودداری سکھاتی ہے۔

طوافِ کعبہ زدی، گردِ دیر گردیدی
نگہ بخویش نہ پیچیدہ ای، دریغ از تو
Roman Urdu Translation
Tawaf-e-Kaba zadi, gird-e-dair gardeedi
Nigah ba-khuish na pecheeda-ee, daraigh az tu
English Translation
You performed the tawaf of the Ka’bah, and you circled the temple too
But you never turned your gaze toward your own self—alas for you
Urdu Translation:
اس غزل کے آخری شعر میں اقبال انسان کی بے سمتی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو نے کعبے کا طواف بھی کیا اور پھر دنیاوی مفادات کی خاطر بت خانوں (غیروں کی چوکھٹ) کے چکر بھی لگائے، یعنی تو نے ہر در پر سجدہ کیا مگر کبھی اپنے آپ کو نہ پہچانا۔ تو نے ظاہری عبادتیں تو کیں لیکن اپنی خودی کی تربیت اور اپنے مقام کی پہچان کی طرف کبھی توجہ نہ دی۔ افسوس ہے کہ تو در در بھٹکتا رہا لیکن اپنے دل کے اندر موجود منزل تک نہ پہنچ سکا۔
مرکزی خیال:
اس غزل کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان جب تک مغرب کی اندھی تقلید کرتا رہے گا اور اپنی خودی سے غافل رہے گا، وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوتا رہے گا۔ اقبال کے نزدیک نجات کا راستہ صرف اپنے اندر جھانکنے اور عشقِ رسول ﷺ کی تڑپ پیدا کرنے میں ہے۔




