
(Payam-e-Mashriq-119) Nietzsche نیٹشا


گر نوا خواہی ز پیشِ او گریز
در نئے کلکش غریوِ تندر است
نیشتر اندر دلِ مغرب فشرد
دستش از خونِ چلیپا احمر است
Roman Urdu Translation
Gar nawa khwahi zi pesh-e-oo guraiz
Dar nay-e-kilkash ghareev-e-tundar ast
Neshtar andar dil-e-Maghrib fashurd
Dastash az khoon-e-chaleepa ahmar ast
English Translation
If you seek a soft melody, flee from him; for within the reed of his pen lies the roar of a thunderbolt. He pressed a lancet into the heart of the West; his hands are stained red with the blood of the Cross.
Urdu Translation
اقبال فرماتے ہیں کہ نیٹشا کوئی نرم و نازک نغمے سنانے والا شاعر یا فلسفی نہیں ہے۔ اگر تم سکون اور دھیمے سروں کی تلاش میں ہو تو اس سے دور رہو، کیونکہ اس کے قلم کی جھرجھری میں بجلی کی کڑک چھپی ہوئی ہے۔ نیٹشا نے اپنی تنقید کے ذریعے مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن پر کاری ضرب لگائی اور مسیحی اخلاقیات (صلیب) کے رائج نظام کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا، اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ اس کے ہاتھ عیسائیت کے خون سے رنگین ہیں۔

آنکہ بر طرحِ حرم بت خانہ ساخت
قلبِ او مومن، دماغش کافر است
خویش را در نارِ آں نمرود سوز
زاں کہ بستانِ خلیل از آذر است
Roman Urdu Translation
Aanka bar tarah-e-Haram butkhana saakht
Qalb-e-oo momin, dimaghash kafar ast
Khuish ra dar nar-e-aan Namrood soz
Zaan ki bustan-e-Khaleel az aazar ast
English Translation
He is the one who built a temple on the foundations of the Sanctuary; his heart is a believer, but his intellect is an infidel. Burn yourself in the fire of this Nimrod; for the garden of Abraham (Khaleel) blossoms from the midst of flames.
Urdu Translation
اقبال نیٹشا کی شخصیت کا عجیب تضاد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے حرم (توحید و عظمتِ انسانی) کے نقشے پر اپنا فلسفہ تو کھڑا کیا مگر وہ منزل نہ پا سکا، اس کا دل تو سچائی کا طالب تھا مگر اس کا دماغ منکرِ خدا رہا۔ اقبال مشورہ دیتے ہیں کہ نیٹشا کے افکار کی تپش اور اس کی “آگ” (جراتِ فکر) سے گھبرانا نہیں چاہیے، بلکہ اس میں غوطہ لگانا چاہیے، کیونکہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے نمرود کی آگ گلزار بن گئی تھی، اسی طرح اس فلسفی کی کڑی تنقید اور جوشِ فکر سے گزر کر ہی ایک نئی اور مضبوط بصیرت حاصل کی جا سکتی ہے۔
خلاصہ
Urdu
اقبال نیٹشا کو ایک ایسے مفکر کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے مغرب کے فرسودہ نظام کو چیلنج کیا۔ اگرچہ نیٹشا دہریہ تھا، مگر اقبال اس کی “قوت” اور “خودی” کے تصور کی قدر کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر نیٹشا کو اسلام کی صحیح روحانی رہنمائی مل جاتی تو وہ دورِ جدید کا بہت بڑا ولی یا مفکر ہوتا۔
English
Iqbal characterizes Nietzsche as a “Western Ecstatic” who possessed a powerful, searching soul but lacked spiritual guidance. While critiquing his atheism, Iqbal admires his courage to dismantle corrupt systems and suggests that his fiery ideas can catalyze a deeper, more robust understanding of the human self (Khudi).




