
(Payam-e-Mashriq-109) Falsafa-o-Siasat فلسفہ و سیاست



فلسفی را با سیاست داں بیک میزاں مسنج
چشمِ آں خورشید کورے، دیدہ ایں بے نمے
Roman Urdu Translation
Falsafi ra ba siyasat-daan ba-yak mizan masanj
Chashm-e-aan khursheed kauray, deeda-e-een be-namay
English Translation
Do not weigh the philosopher and the politician in the same scale
The eye of the former is blind to the sun, while the eye of the latter is devoid of tears
Urdu Translation
اقبال فرماتے ہیں کہ فلسفی اور سیاستدان کو کبھی ایک ہی ترازو میں نہیں تولنا چاہیے کیونکہ دونوں کی فکر اور طریقِ کار بالکل مختلف ہے۔ فلسفی کی مثال ایسی ہے کہ وہ علم و عقل کی باریکیوں میں ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے سامنے چمکتا ہوا سورج (واضح حقیقت) بھی نظر نہیں آتا، یعنی وہ خیالی دنیا میں مگن رہتا ہے۔ دوسری طرف سیاستدان کی آنکھ “نم” یعنی ہمدردی اور انسانیت کے جذبے سے خالی ہوتی ہے؛ وہ صرف اپنے مفاد اور مصلحت کو دیکھتا ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

آں تراشد قولِ حق را حجتِ نا استوار
وئیں تراشد قولِ باطل را دلیلِ محکمے
Roman Urdu Translation
Aan tarashad qaul-e-haq ra hujjat-e-na-ustuwar
Waeen tarashad qaul-e-baatil ra daleel-e-muh-kamay
English Translation
The philosopher carves out weak arguments for the sake of the Truth
The politician fabricates solid proofs to justify a Falsehood
Urdu Translation
شاعر دونوں کی کمزوریوں کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسفی کا حال یہ ہے کہ وہ ایک سچی اور حق بات کو ثابت کرنے کے لیے بھی ایسی پیچیدہ اور کمزور دلیلیں لاتا ہے کہ اصل حقیقت ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، سیاستدان اتنا چالاک ہوتا ہے کہ وہ ایک جھوٹی اور باطل بات کو بھی اپنی لفاظی اور ہوشیاری سے اتنا مضبوط بنا کر پیش کرتا ہے کہ لوگ اسے سچ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ گویا فلسفی سچ کو کمزور کر دیتا ہے اور سیاستدان جھوٹ کو طاقتور بنا دیتا ہے۔
خلاصہ
Urdu
اس نظم کا مرکزی خیال عقلِ محض (فلسفہ) اور مصلحتِ وقت (سیاست) کی خامیوں کو بیان کرنا ہے۔ اقبال کے نزدیک فلسفی عملی دنیا سے دور محض سوچ بچار میں الجھا رہتا ہے، جبکہ سیاستدان اخلاقیات سے عاری ہو کر صرف اقتدار اور جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔
English
The central theme of this poem highlights the flaws of pure intellectualism (philosophy) and political opportunism. According to Iqbal, the philosopher is detached from reality and lost in abstraction, while the politician is devoid of empathy and uses his skills to give falsehood the appearance of truth.




