
(Payam-e-Mashriq-110) Sohbat Raftagan (Dar Alam Bala) صحبتِ رفتگان: در عالمِ بالا



بارکشِ اہرمن، شحنہء شہریار
از پےِ نانِ جویں تیغِ ستم برکشید
زشت بہ چشمش نکوست، مغز نداند ز پوست
مردکِ بیگانہ دوست، سینہء خویشاں درید!
Roman Urdu Translation
Barkash-e-Ahriman, shuhna-e-shahriyar
Az paye naan-e-javeen tegh-e-sitam bar-kasheed
Zisht ba chashmash nakoost, maghz nadand zi poost
Mardak-e-begana-dost, seena-e-khweshan dareed
English Translation
The servant of the Devil and the king’s guard
Has drawn the sword of oppression just for a piece of barley bread
In his eyes, evil appears as good; he cannot distinguish the core from the shell
This foolish man, who befriends strangers, has torn apart the bosoms of his own kin
Urdu Translation
ٹالسٹائی کے ذریعے اقبال ایک ایسے سپاہی یا اہلکار کا نقشہ کھینچتے ہیں جو بادشاہ (ملوکیت) کا آلہ کار ہے۔ وہ اسے “شیطان کا بوجھ اٹھانے والا” قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ محض جو کی روٹی (معمولی معاش) کی خاطر غریبوں پر ظلم کی تلوار چلاتا ہے۔ اس کی عقل ماری جا چکی ہے، اسے برائی بھلائی نظر آتی ہے اور وہ ظاہر و باطن (مغز و پوست) میں تمیز نہیں کر سکتا۔ وہ غیروں (حکمرانوں اور ظالموں) کی وفاداری میں اپنے ہی ہم وطنوں اور بھائیوں کا خون بہاتا ہے۔

داروئے بیہوشی است تاج، کلیسا، وطن
جانِ خداداد را خواجہ بجامے خرید!
Roman Urdu Translation
Daruye be-hoshi ast taj, kaleesa, watan
Jan-e-khudadad ra khwaja ba-jamay khareed
English Translation
Imperialism (the Crown), the Church, and narrow Nationalism are but drugs of unconsciousness;
The master (capitalist) has bought the God-given life for the price of a single cup of wine
.
Urdu Translation
اقبال یہاں ان “نشوں” یا نعروں کا ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ملوکیت (تاج)، مذہبی اجارہ داری (کلیسا) اور وطن پرستی کے بت وہ “بے ہوشی کی دوائیں” ہیں جن کے ذریعے انسان کی عقل کو سلب کر لیا جاتا ہے۔ سرمایہ دار اور حکمران طبقہ ان نعروں کی آڑ میں انسان کی قیمتی جان اور اس کی محنت کو معمولی قیمت (شراب کے ایک جام یا معمولی مفاد) کے بدلے خرید لیتے ہیں اور اسے احساسِ غلامی تک نہیں ہونے دیتے۔
خلاصہ
Urdu
اس نظم میں علامہ اقبال نے ان بتوں (تاج، کلیسا اور وطن) کو بے نقاب کیا ہے جنہیں مقتدر طبقہ عوام کے استحصال کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ٹالسٹائی کے کردار کے ذریعے وہ بتاتے ہیں کہ مادی مفاد کی خاطر اپنے بھائیوں پر ظلم کرنا انسانیت کی تذلیل ہے اور یہ سب ملوکیت و سرمایہ داری کے پیدا کردہ فتنے ہیں۔
English
In this poem, Iqbal exposes the modern idols—Imperialism, Religious Institutions, and narrow Nationalism—that are used by the ruling class to exploit the masses. Through Tolstoy’s perspective, he argues that sacrificing one’s conscience for petty material gains or oppressive systems is a betrayal of humanity.




