(Payam-e-Mashriq-121) Petofi پٹوفی

نفسے دریں گلستاں ز عروسِ گل سرودی

بدلے غمے فزودی، زدلے غمے ربودی

تو بخوںِ خویش بستی کفِ لالہ را نگارے

تو بآہِ صبحگاہے دلِ غنچہ را کشودی

Roman Urdu Translation

Nafsay dareen gulistan zi aroos-e-gul saroodi

Badilay ghamay fazoodi, zi dilay ghamay raboodi

Tu ba-khoon-e-khuish basti kaf-e-lala ra nigaray

Tu ba-aah-e-subhgahay dil-e-ghuncha ra kashoodi

English Translation

For a brief moment in this garden, you sang of the rose-bride; you added sorrow to some hearts and took it away from others. With your own blood, you painted patterns on the palm of the tulip; and with your morning sighs, you opened the heart of the flower-bud

.

Urdu Translation

اقبال پٹوفی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو اس دنیا کے باغ میں بہت تھوڑی دیر (نفسے) کے لیے آیا لیکن تیری شاعری کا اثر بہت گہرا تھا۔ تو نے جب حسن اور وطن کے گیت گائے تو تیرے کلام نے کسی کے دل میں (وطن کی تڑپ کا) غم بڑھا دیا اور کسی غمزدہ دل کو سکون بخشا۔ تو نے صرف باتیں نہیں کیں بلکہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے اپنا خون بہایا، اور تیرے اس خون نے گلِ لالہ (شہادت کی علامت) کو اور زیادہ رنگین کر دیا۔ تیری سحر گاہی آہوں اور کلام نے سوئے ہوئے لوگوں (غنچوں) کے دلوں کو بیدار کر دیا۔

بنوائے خود گم استی سخنِ تو، مرقدِ تو

بہ زمیں نہ باز رفتی کہ تو از زمیں نبودی!

Roman Urdu Translation

Ba-nawaye khud gum asti sukhan-e-tu, marqad-e-tu

Ba-zameen na baaz rafti ki tu az zameen naboodi

English Translation

You are lost within your own melody; your poetry is your shrine. You never returned to the earth (your body was never found), for you never truly belonged to this earth

Urdu Translation

چونکہ پٹوفی کی لاش میدانِ جنگ میں نہیں ملی تھی، اقبال اس واقعے کو ایک خوبصورت شاعرانہ رنگ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے شاعر! تجھے کسی مٹی کے ڈھیر یا قبر کی ضرورت نہیں، تیرا کلام ہی تیرا ابدی مزار (مرقد) ہے۔ تو مرنے کے بعد زمین کی آغوش میں اس لیے نہیں گیا کیونکہ تیری روح اس مادی دنیا کی تھی ہی نہیں؛ تو ایک آسمانی پرندہ تھا جو اپنی پرواز مکمل کر کے واپس اپنے اصل مقام پر چلا گیا ہے۔

خلاصہ

Urdu

اس نظم میں اقبال نے ایک ایسے شاعر کی عظمت بیان کی ہے جس نے اپنے نظریات کے لیے جان قربان کر دی۔ اقبال کے نزدیک سچا شاعر وہی ہے جس کا کلام زندگی پیدا کرے اور جس کی موت بھی ایک پیغام بن جائے۔ پٹوفی کا جسم اگرچہ نہیں ملا، مگر اس کی روح اس کے نغموں میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔

English

In this poem, Iqbal honors Petofi as a martyr-poet who sacrificed his life for his country’s freedom. Since his body was never recovered, Iqbal beautifully suggests that a soul as noble as Petofi’s was never bound to the earth; instead, his revolutionary poetry serves as his eternal monument, continuing to inspire hearts long after his physical departure.

Share your love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *