Yani-14 Na Do Naveed-e-Khush Anjaam by Jaun Elia

نہ دو نویدِ خوش انجام — جون ایلیا نہ دو نویدِ خوش انجام ڈر گئے ہیں یہاںدلوں پہ وصل کے صدمے گزر گئے ہیں یہاں جدا جدا رہو یارو جو عافیت ہے عزیزکہ اختلاط کے جلسے بکھر گئے ہیں یہاں…

نہ دو نویدِ خوش انجام — جون ایلیا نہ دو نویدِ خوش انجام ڈر گئے ہیں یہاںدلوں پہ وصل کے صدمے گزر گئے ہیں یہاں جدا جدا رہو یارو جو عافیت ہے عزیزکہ اختلاط کے جلسے بکھر گئے ہیں یہاں…

بند باہر سے مری ذات — جون ایلیا بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میںمیں نہیں خود میں، یہ اک عام خبر ہے مجھ میں اک عجیب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حالجونؔ…

مژہ خونیں تو چہرہ — جون ایلیا مژہ خونیں تو چہرہ زرد نکلادل اس کرتب میں اپنے فرد نکلا سبھی ویران تھے گھر اور گلیاںکہیں سے اک سگِ ولگرد نکلا Roman Urdu Muzha khooneen to chehra zard niklaDil is kartab…

ہنگامۂ نشاطِ طبیعت بھی — جون ایلیا ہنگامۂ نشاطِ طبیعت بھی جبر ہےشاید کہ اختیار کی حالت بھی جبر ہے بے خبرِ التفات و عنایت کی آرزواور نازِ التفات و عنایت بھی جبر ہے Roman Urdu Hungama-e-nishat-e-tabiyat bhi jabr haiShayad…

کتنے سوال اٹھتے رہتے تھے — جون ایلیا کتنے سوال اٹھتے رہتے تھے، ان کے جوابوں کے تھے ہمکس کا دل، کیسی دل داری، اپنے حسابوں کے تھے ہم تھا وہ گماں کی روشنیوں میں روشنیوں کا ایک گماںخواب کی…

شاہدِ روزِ واقعہ صورت — جون ایلیا شاہدِ روزِ واقعہ صورت ماجرا ہے کیاکتنے جتھے بکھر گئے کتنے ہجوم مر گئے رونقِ بزمِ زندگی! طرفہ ہیں تیرے لوگ بھیاک تو کبھی نہ آئے تھے گئے تو روٹھ کر گئے Roman…

بے قراری سی بے قراری ہے — جون ایلیا بے قراری سی بے قراری ہےوصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سےہم نے وہ زندگی گزاری ہے Roman Urdu Beqarari si beqarari haiVisaal hai aur…

ترے خواب بھی ہوں — جون ایلیا ترے خواب بھی ہوں گنوارہا، ترے رنگ بھی ہیں بکھر رہےیہی روز و شب ہیں تو جانِ جاں، یہ وظیفہ خوار تو مر رہے وہی روز گار کی محنتیں کہ نہیں ہے فرصتِ…

زمیں تو کچھ بھی نہیں — جون ایلیا زمیں تو کچھ بھی نہیں، آسماں تو کچھ بھی نہیںاگر گمان نہ ہو درمیان تو کچھ بھی نہیں حریمِ جاں میں ہے اک داستاں سراپا حالخوش اس کا حال مگر داستاں تو…

شوق کا رنگ بجھ گیا — جون ایلیا شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئےکیا مری فصل ہو چکی کیا مرے دن گزر گئے رہ گزرِ خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگوقت کی گردِ باد میں…